hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 6076

28. حضرت ابورمثہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

6076
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ أَوْ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَا النَّخْلَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ قَالَ فَرَأَتْ أُمُّهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَثَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اپنے ساتھ حضرت ابی بن کعب (رض) کو لے کر کھجوروں کے اس باغ میں گئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا نبی کریم ﷺ جب اس باغ میں داخل ہوئے تو ٹہنیوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے چلنے لگے نبی کریم ﷺ یہ چاہتے تھے کہ چپکے سے جا کر ابن صیاد کی کچھ باتیں قبل اس کے کہ وہ نبی کریم ﷺ کو دیکھے سن لیں ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا کچھ گنگنا رہا تھا ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھ لیا کہ وہ ٹہنیوں اور شاخوں کی آڑ لے کر چلے آ رہے ہیں تو فوراً بول پڑی صافی (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد ﷺ آ رہے ہیں یہ سنتے ہی وہ کود کر بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر وہ عورت اسے چھوڑ دیتی ( اور میرے آنے کی خبر نہ دیتی) تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کردیتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔