حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا حضرت صدیق اکبر (رض) تشریف لائے اور اجازت طلب کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو پھر حضرت عمر (رض) آئے اور اجازت طلب کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو میں نے عرض کیا کہ میں کہاں گیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنے والد صاحب کے ساتھ ہو گے۔