عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ جَارِيَةً لِي کَانَتْ تَرْعَی غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنْ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا فَقَالَتْ أَکَلَهَا الذِّئْبُ فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا وَکُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَقَالَتْ فِي السَّمَائِ فَقَالَ مَنْ أَنَا فَقَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا
عمر بن حکم سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی جب میں وہاں گیا دیکھا تو ایک بکری گم ہے پوچھا میں نے ایک بکری کہاں ہے بولی اس کو بھیڑیا کھا گیا ہے مجھے غصہ آیا آخر میں آدمی تھا میں نے ایک طماچہ اس کے منہ پر جڑا میرے ذمے ایک بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا اللہ جل جلالہ کہاں ہے وہ بولی آسمان پر ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں کون ہو بولی آپ ﷺ اللہ کے رسول پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو فرمایا اس کو آزاد کر دے۔