hadith book logo

Muawtta Imam Malik: Hadith 1156

.

موطأ مالك

1156
Muawtta Imam Malik
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ کُنْتَ تَرَاهَا مُؤْمِنَةً أُعْتِقُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْهَا عَنْ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يُعْتِقُ فِيهَا ابْنَ زِنًا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ تَکُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ هَلْ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا قَالَ نَعَمْ ذَلِکَ يُجْزِئُ عَنْهُ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری رسول اللہ ﷺ کے پاس کالی لونڈی لے کر آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے اوپر ایک مسلمان بردہ آزاد کرنا واجب ہے کیا میں اس کو آزاد کر دوں اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے تو میں اسی کو آزاد کر دوں آپ ﷺ نے اس لونڈی سے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ کے وہ بولی ہاں پھر آپ ﷺ نے فرمایا تو یقین کرتی ہے اس بات کو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں وہ بولی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کر کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھیں گے بولی ہاں تب آپ ﷺ نے فرمایا اس کو آزاد کر دے ابوہریرہ (رض) سوال ہوا کہ جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا ہو ولد الزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔ فضالہ بن عبید انصاری سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہوگیا وہ ولدا لزنا کو آزاد کرسکتا ہے جواب دیا ہاں کرسکتا ہے۔