أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ} [البقرة: 235] ، قَالَ: أَنْ تَقُولَ لِلْمَرْأَةِ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا: إِنَّكَ عَلَيَّ كَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللَّهَ سَائِقٌ إِلَيْكِ رِزْقًا، وَنَحْوَ هَذَا مِنَ الْقَوْلِ
عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ قاسم قرآن مجید کی اس آیت ” ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء او اکننتم فی انفسکم “ تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں جو تم بطور تعریض عورتوں کی منگنی کے سلسلہ میں کہو یا اپنے دلوں میں چھپاؤ۔ کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ جو عورت اپنے خاوند کی عدت وفات کے ایام گزار رہی ہو اور اس سے کوئی کہے کہ تم میرے لیے ایک نعمت ہو۔ اور مجھے تمہارے طرف رغبت ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری طرف رزق لانے والے ہیں۔ اور اسی قسم کے الفاظ عرضتم سے مراد ہیں۔