أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّهَا نُسِخَتْ هَذَه الآيَةُ بِالَّتِي بَعْدَهَا، ثُمَّ قَرَأَ: {وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ} [النور: 32] ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا لا بَأْسَ بِتَزَوُّجِ الْمَرْأَةِ، وَإِنْ كَانَتْ قَدْ فَجَرَتْ، وَإِنْ يَتَزَوَّجْهَا مَنْ لَمْ يَفْجُرْ
یحییٰ بن سعید نے سعید بن المسیب سے بیان کیا کہ آیت ” الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ و الزانیۃ لا ینکحہا الا زان او مشرک اس آیت سے منسوخ ہے جو اس کے بعد آرہی ہے۔ پھر وہ نااسخ آیت پڑھی و انکحوا الایامی منکم والصالحین من عبادکم و امائکم ۔ اور تم اپنے میں سے بیوہ عورتوں سے نکاح کردو اور اپنے نیک غلاموں اور لوندیوں کا نکاح کردو “
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو مختار قرار دیتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ کہ اس عورت سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ اس نے (پہلے) بدکاری کی ہو۔ اور نکاح کرنے والے نے بدکاری نہ کی ہو ( جمہور کا یہی مسلک ہے)