قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، قَالَ عَمْرُو , حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، فَرَآهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ» ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: مَا أَدْرِي لَعَلَّهُ لَمْ يَرَ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَحَفِظَ هَذَا مِنْهُ، وَلَمْ يَحْفَظْهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَأَصْحَابُهُ مَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ، إِنَّمَا كَانُوا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي بَدْءِ الصَّلاةِ حِينَ يُكَبِّرُونَ
حصین بن عبد الرحمن اور عمرو بن مرہ دونوں ابراہیم نخعی کے پاس آئے۔ پہر عمرو نے کہا کہ مجھے علقمہ نے اپنے والد وائل حضرمی کی وساطت سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کی۔ میں نے دیکھا کہ آپ جب تکبیر کہتے ، رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو ہاتھ اٹھاتے، اس پر ابراہیم نخعی کہنے لگے انھوں نے ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا اور پس وہی بات ان کو یاد رہی اور انھوں نے محفوظ کی مگر اس بات کو ابن مسعود اور ان کے شاگردوں نے محفوظ نہ کیا۔ میں نے ابن میں سے کسی سے یہ نہیں سنا۔ وہ تمام نماز کی ابتدائی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے۔