أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ مِنَ الصَّلاةِ مَعَ الإِمَامِ الَّتِي يُعْلِنُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَإِذَا سَلَّمَ، قَامَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَرَأَ لِنَفْسِهِ فِيمَا يَقْضِي "
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لأَنَّهُ يَقْضِي أَوَّلَ صَلاتِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) نے ابن عمر (رض) کے متعلق بیان کیا کہ جب ان کی جہری قراءت والی نماز کا کچھ حصہ امام کے ساتھ فوت ہواجاتا تو ابن عمر سلام کے بعد کھڑے ہو کر بقیہ نماز جہری قراءت کے ساتھ ادا کرتے (اس اثر کو امام مالک نے باب العمل فی القرائۃ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی گزری نماز کا پہلی حصہ ادا کرے گا اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔