أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ.
فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ»
عطاء بن یسار (رح) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شک کرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے نے تین رکعات پڑہی ہیں یا چار پڑھی ہیں تو وہ ایک رکعت پڑھ لے اور بیٹھے بیٹھے آخری سلام سے قبل دوسجدے کرے۔ پس اگر اس نے یہ رکعت جو پڑھی پانچویں ہے تو ان دو سجدوں کے ساتھ اس نے گوئیا دو رکعات بنالیں اور اگر یہ چوتھی رکعت تھی تو دو سجدے شیطان کی تذلیل کا باعث ہوں گے۔
(مؤطا امام مالک میں یہ راویت امام مالک نے باب اتمام المصلی ما ذکر اذا شک فی الصلوۃ میں ذکر کی ہے)