أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفْتُ نَهَانِي، وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِصَنِيعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْخَذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَأَمَّا تَسْوِيَةُ الْحَصَى فَلا بَأْسَ بِتَسْوِيَتِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَتَرْكُهَا أَفْضَلُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
علی بن عبد الرحمن المعاوی کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عمر نے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا۔ جب میں فارغ ہوا تو مجھے اس سے منع کیا اور فرمایا تم اس طرح کرو جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کرتے تھے ؟ انھوں نے جوابا فرمایا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی کو دائیں ران بر رکھتے اور تمام انگلیوں کو بند کرلیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی ران پر رکھتے۔ اور پھر فرمانے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح کرتے تھے۔ ( اس روایت کو مؤطا مالک میں باب العمل فی الجلوس میں ذکر کیا گیا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرز علم کو اختیار کرنے والے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ باقی جہاں کنکریوں کرنے کا معاملہ ہے تو ایک بار درست کرنے میں ہم کوئی حرج نہیں سمجھتے مگر اس کو بھی ترک کردینا زیادہ بہرت ہے اور امام اوبو حنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔