أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَهُّدَ وَيَقُولُ: قُولُوا: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»
عبد الرحمن بن عبد القاری (رح) نے عمر بن خطاب (رض) کو منبر پر تشریف رکھتے ہوئے لوگوں کو تشہد کی تعلیم دیتے ہوئے سنا۔ آپ فرما رہے تھے اے لوگو اس طرح کہو۔ التحیات للہ۔ الطیبات الصلوات للہ، السلام علیک ایہا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین، اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد أن محمد عبدہ و رسولہ ، تمام سلاموں کے تحفے اللہ کی کے لیے ہیں ، پاکیزہ اعمال اللہ ہی کے لیے ہیں، پاکیزہ نمازیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں، ہم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔