أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقَرْأُ بِالسُّورَةِ وَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلِ مِنْهَا»
ام المؤمنین حضرت حفصہ (رض) عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبہی بیتہ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکہا البتہ وفات سے ایک سال پہلے آپ نفل بیٹھ کر پڑھتے تھے اور قراءت ترتیل سے فرماتے یہاں تک کہ وہ سورت اپنے سے زیادہ لمبی سورت سے بھی ہوجاتی اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی صلوۃ القاعد فی النافلۃ میں ذکر فرمایا ہے۔