أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَجْلِسُ عَلَى عَقِبَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي الصَّلاةِ، فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ: إِنَّمَا فَعَلْتُهُ مُنْذُ اشْتَكَيْتُ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي أَنْ يَجْلِسَ عَلَى عَقِبَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَلَكِنَّهُ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا كَجُلُوسِهِ فِي صَلاتِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
مغیرہ بن حکیم نے عبداللہ بن عمر (رض) کو دیکھا کہ وہ دونوں سجدوں میں اپنے قدموں کے پنجوں پر سہارا لیتے تھے۔ جب انھوں نے نماز ختم کی تو مغیرہ نے ان سے اس بات کا تذکرہ کیا تو عبداللہ کہنے لگے۔ یہ نماز کی سنت نہیں ہے۔ اور میں تو اس لیے ایسا کرتا ہوں کہ میں بیمار ہوں۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ دونوں نسجدوں کے درمیان بھی پنجوں پر بیٹھنا مناسب نہیں بلکہ ان کے ما بین بھی اسی طرح بیٹھے جیسے تشہد میں بیٹھتا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔