أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَكِيمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَبَّرَ فِي صَلاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدَهِ أَنِ امْكُثُوا، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ وَعَلَى جِلْدِهِ أَثَرٌ فَصَلَّى» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ سَبَقَهُ حَدَثٌ فِي صَلاةٍ، فَلا بَأْسَ أَنْ يَنْصَرِفَ، وَلا يَتَكَلَّمَ فَيَتَوَضَّأَ، ثُمَّ يَبْنِيَ عَلَى مَا صَلَّى، وَأَفْضَلُ ذَلِكَ أَنْ يَتَكَلَّمَ وَيَتَوَضَّأَ وَيَسْتَقْبِلَ صَلاتَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
عطاء بن یسار (رح) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی نماز میں تکبیر تحریمہ کہی، پھر لوگوں کو ہاتھ کا اشارہ فرمایا کہ ٹھہر جاؤ۔ پھر تشریف لے گئے اور جب واپس لوٹے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسد اطہر پر پانی کی علامات تھیں۔ پھر آپ نے نماز پڑھائی۔
(اس روایت کو مرسل ہی مؤطا امام مالک میں ذکر کیا گیا ہے باب اعادۃ الجنب الصلوۃ)
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جس کو نماز میں حدث لاحق ہوجائے اسے نماز سے پھرجانے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ لوٹ جائے اور گفتگو نہ کرے پھر وضو کرکے اپنی سابقہ نماز پر بناء کرے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ کلام کرے اور وضو کر کے نئے سرے سے نماز شروع کرے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا یہ قول ہے۔