أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: «لا تَحَرَّوْا بِصَلاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلا غُرُوبَهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَطْلُعُ قَرْنَاهُ مِنْ طُلُوعِهَا، وَيَغْرُبَانِ عِنْدَ غُرُوبِهَا» ، وَكَانَ يَضْرِبُ النَّاسَ عَنْ تِلْكَ الصَّلاةِ.
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ وَغَيْرُهُ عِنْدَنَا فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) کہا کرتے تھے۔ کہ سورج کے طلوع و غروبب کے وقت نماز کا قصد مرت کرو کیونکہ طلوع آفتاب کے ساتھ شیطان کے دو سینگ کھڑیی ہوتے ہیں اور اس کے غروب کے ساتھ وہ بھی غروب ہوجاتے ہیں اور عمر (رض) لوگوں کو عصرر کے بعد نماز پڑھنے پر مارتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم سب روایات و آثار کو اختیار کرتے ہیں اس میں جمعہ اور غیر جمعہ کا دن ایک ہی حکم رکھتا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔