أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ " رَأَى رَجُلا رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا شَأْنُهُ؟ فَقَالَ نَافِعٌ: فَقُلْتُ: يَفْصِلُ بَيْنَ صَلاتِهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَيُّ فَصْلٍ أَفْضَلُ مِنَ السَّلامِ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
ابن عمر (رض) نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ فجر کی دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ گیا ابن عمر (رض) عنما کہنے لگے ، وہ اس طرح کیوں کررہا ہے ؟ نافع کہتے ہیں کہ میں کہا وہ اپنی نماز کے دوران فرق کررہا ہے۔ آپ نے فرمایا کیا سلام پھیرنے سے بڑھ کر کسی اور فرق کی حاجت تھی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم ابن عمر (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ (کہ فاصلہ کے لیے لیٹنے کی حاجت نہیں ہے)