أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَقْرَأُ بِالطُّورِ فِي الْمَغْرِبِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: الْعَامَّةُ عَلَى أَنَّ الْقِرَاءَةَ تُخَفَّفُ فِي صَلاةِ الْمَغْرِبِ، يَقْرَأُ فِيهَا بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ.
وَنَرَى أَنْ هَذَا كَانَ شَيْئًا فَتُرِكَ، أَوْ لَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ بَعْضَ السُّوَرَةِ ثُمَّ يَرْكَعُ
جبیر بن معطم بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز مغرب میں سورة الطور پڑھتے سنا ہے۔ اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب القراءت فی المغرب و العشاء میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے کہ عام فقہاء کے ہاں مغررب کی نماز میں ن چھوٹی سورتیں تلاوت کی جائیں۔ جیسے قصار مفصل ( سورة لکن یکن سے آخر قرآن تک) ہمارا خیال یہ ہے کہ ابتداء میں یہ سورتیں پڑھی ہوں گی بعد میں ترک فرمادیں یا ان سورتوں کا بعض حصہ پڑھتے اور پھر رکوع کرلیتے ہوں گے)