أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي، وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا بَأْسَ بِذَلِكَ مَا لَمْ يَعْلَقْ بِالذَّيْلِ قَذَرٌ، فَيَكُونُ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ الْكَبِيرِ الْمِثْقَالِ: فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، فَلا يُصَلِّيَنَّ فِيهِ حَتَّى يَغْسِلَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
ام سلمہ ام المؤمنین (رض) عنہا سے ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولد نے دریافت کیا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جو کہ لمبا دامن رکھتی ہوں اور اسی طرح لٹکا کر چلتی ہوں۔ جس میں مجھے گندے مقامامت سے بھی گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے ( تو اس کپڑے کا کیا حکم ہے) ام سلمہ (رض) عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ( اس قسم کے سوال کا جواب یہ مرحمت) فرمایا کہ بعد مالا راستہ اس دامن کو پاک کردے گا۔
قول محمد (رح) یہ ہے اس میں کوئی حرج کی بات نہیں کہ اگر دامل اوپر سے گزرے مگر دامن کے ساتھ اتنی نجاست نہ چمٹے جو مقدار درہم سے زاید ہو۔ اگر مقدار درہم سے زیادہ ہو دھونے کے بغیر اس کپڑے میں ہرگز نماز نہ پڑھی جائے گی۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔