hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 300

.

موطأ الامام محمد

300
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ، فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ، فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسْكِتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ، فَلا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةً، قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: إِذَا مَاتَ، قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنِّي كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟ قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجَمْعٍ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ "
جابر بن عتیک (رض) کہتے ہیں۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن ثابت (رض) کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سخت تکلیف میں پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں آواز دی مگر وہ ( تکلیف کی وجہ سے) جواب نہ دے سکے۔ پس پھر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھی، پھر فرمایا۔ اے ابو الربیع ہم تمہارے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے سامنے مغلوب ہیں۔ اس پر عورتوں نے چیخ و پکار کی اور وہ رونے لگیں۔ جابر بن عتیک (رض) عورتوں کو خاموش کرنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ انھیں چھوڑدو۔ جب واجب ہوچکا تو کوئی رونے والی ہرگز نہ روئے (یعنی اس کے رونے سے کیا فائدہ ) لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا وجوب کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ اس کا فوت ہوجانا ہے۔ عبداللہ مرحوم کی بیٹی بولی۔ اللہ کی قسم ! مجھے امید ہے کہ تم شہید ہوگئے۔ تمنی جہاد کا مکمل سامان تیار کر رکھا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان کا اجر ان کی نیت کے مطابق تیار کر رکھا ہے۔ ( اے لوگو ! ) تم کس چیز کو شہادت سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا جو اللہ تعالیٰ راہ میں مارا جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کے سوا شہادت کی سات اور صورتیں بہی ہیں۔ (١) طاعون سے مرنے والا شہید ہے (٢) ڈوب کر مرنے والا شہید ہے۔ (٣) نمونیہ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے۔ (٤) جل کر مرنے والا شہید ہے۔ (٥) دیوار کے نیچے دب کر مرجانے والا شہید ہے۔ (٦) وضع حمل کے دوران مرنے والی عورت شہیدہ ہے۔ (٧) ہیضہ کی بیماری سے مرجانے والا شہید ہے ( رواہ ابو داؤد و نسائی) (امام مالک نے اسے باب النہی عن البکاء علی المیت میں ذکر کیا ہے)