hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 301

.

موطأ الامام محمد

301
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا سُمَيٌّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فغَفَرَ لَهُ، وَقَالَ: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي العَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا "
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ایک آدمی جارہا تھا اس نے راستہ میں ایک کانٹے دار ٹہنی دیکھی۔ اس نے راستہ سے وہ ٹہنی ہٹادی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر کی اور اس بخشش فرمادی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ شہید پانچ قسم کے لوگ ہیں۔ (١) ہیضہ کی بیماری سے مرنے والا۔ (٢) طاعون سے مرنے والا۔ (٣) پانی میں ڈوبنے والا۔ (٤) دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا۔ (٥) جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارا جائے اور یہ بھی ارشاد فرمایا۔ اگر لوگوں کو علم ہوجائے کہ اذان دینے اور صف اول میں شریک ہونے میں کس قدر ثواب ہے تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کرتے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ مسجد میں پہلے آنے کا کیا ثواب ہے تو وہ پہلے پہنچنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرتے۔ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجاتا کہ عشاء اور فجر کی جماعت میں شرکت کرنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان جماعتوں میں شرکت کے لیے گھٹنوں کے بل چل کر آتے۔