أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يَقُولُ: «هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ، فَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَلْيُؤَدِّ دَيْنَهُ حَتَّى تُحَصَّلَ أَمْوَالُكُمْ، فَتُؤَدُّوا مِنْهَا الزَّكَاةَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَهُ مَالٌ فَلْيَدْفَعْ دَيْنَهُ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَفِيهِ زَكَاةٌ، وَتِلْكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، أَوْ عِشْرُونَ مِثْقَالا ذَهَبًا فَصَاعِدًا، وَإِنْ كَانَ الَّذِي بَقِيَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ، بَعْدَ مَا يَدْفَعُ مِنْ مَالِهِ الدَّيْنَ فَلَيْسَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
حضرت عثمان بن عفان (رض) (رمضان کے متعلق کہا کرتے تھے) یہ تمہاری زکوۃ کا مہینہ ہے ) ۔ پس جس کے ذمہ قرضہ ہو وہ اپنا قرض ادا کرے پھر جو مال باقی رہ جائے پس اس میں سے زکوۃ ادا کرے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جس کے ذمہ قرضہ ہو اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال میں سے اپنا قرضہ ادا کرے اگر اس کے بعد اتنا مال بچ جائے جس میں زکوۃ لازم ہوتی ہو تو اس میں زکوۃ ہے۔ اور اس کی اس نصاب کی مقدار چاندی کے حساب سے دو سو درہم یا بیس مثقال سونا ہے یا اس سے زیادہ ہو ( تو اس میں کزوۃ ہوگی) اگر قرض کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال اس مقدار سے کم ہو تو اس میں زکوۃ نہیں ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے (اس روایت کو باب الزکوۃ فی الدین میں امام مالک نے ذکر کیا ہے) امام سرخسی نے مبسوط میں تصریح کی ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے کتاب الاثار میں رمضان کا لفظ خود موجود ہے