أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ: أَنْ لا يَأْخُذَ مِنَ الْخَيْلِ، وَلا الْعَسَلِ صَدَقَةً، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا الْخَيْلُ فَهِيَ عَلَى مَا وَصَفْتُ لَكَ، وَأَمَّا الْعَسَلُ فَفِيهِ الْعُشُرُ، إِذَا أَصَبْتَ مِنْهُ الشَّيْءَ الْكَبِيرَ خَمْسَةَ أَفْرَاقٍ فَصَاعِدًا، وَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَقَالَ: فِي قَلِيلِهِ، وَكَثِيرِهِ الْعُشُرُ، وَقَدْ بَلَغَنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ فِي الْعَسَلِ الْعُشُرَ.
عبداللہ بن ابی بکر بن حزم (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد ابوبکر بن حزم کے پاس ( منی میں) عمر بن عبد العزیز (رح) کا خط پہنچا جس میں درج تھا کہ گھوڑوں اور شہد سے زکوۃ نہ لی جائے۔ ( اس قول کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی صدقۃ ا لرقیق و الخیل و العسل میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : گھوڑوں کے متعلق تو اوپر وضاحت کردی گئی۔ رہا شہد کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں عشر ہے۔ جبکہ تم پبانچ فرق یا اس سے زیادہ شہد اس سے حاصل کرو۔ مکر امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہ ہے کہ شہد کی مقدار کم ہو یا زیادہ اس میں عشر واجب ہے اور ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہد میں عشر مقرر کیا ہے۔ (رواہ العقیلی عن ابی ہریرہ (رض) اور اس کی مثل ابو داؤد، نسائی ، ابن ماجہ نے روایت نقل کرکے عشر کی وصولی ١ کر کی ہے)