أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ نُعْمَانَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ، صَلَّوُا الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَزْوَادِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ لَهُمْ بِالْمَاءِ، «فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا وُضُوءَ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ وَلا مِمَّا دَخَلَ، إِنَّمَا الْوُضُوءُ مِمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَدَثِ، فَأَمَّا مَا دَخَلَ مِنَ الطَّعَامِ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ، أَوْ لَمْ تَمَسَسْهُ فَلا وُضُوءَ فِيهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
سوید بن نعمان (رض) نے بتلایا کہ غزوہ خیبر والے سال میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہمراہی میں نکلا۔ جب آپ خیبر کے قریب مقام صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری سے اتر کر نماز عصر ادا فرمائی پھر آپ نے کھانے کا سامان طلب کیا۔ آپ کی خدمت میں ستو پیش کیے : ئے آپ نے اسے گھولنے کا حکم دیا۔ (چنانچہ وہ حسب الحکم گھول دئیے گئے آپ نے نوش فرمائے اور ہم نے بھی پئے) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کے لیے اٹھے تو آپ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلیان کیں پھر آپ نے نیا وضو کرنے کے بغیر مغربب کی نماز پڑھائی۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم انھیں آثار و روایت سے دلیل لیتے ہیں کہ آگ سے پکی چیز کے کھالینے کے بعد نہ وضو لازم ہے اور نہ اس چیز کے کھالینے بعد جو آگ سے نہ پکی ہو (پھل، سبزیاں وغیرہ) بلکہ وضو اس پلیدی اور نجاست سے لازم ہوتا ہے جو جسم سے نکلے۔ آگ سے پکی ہوئی یا کچی کھانے کی چیز کھا لینے وضو کرنا لازم نہیں ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔