hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 350

.

موطأ الامام محمد

350
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلا قَبَّلَ امْرَأَةً وَهُوَ صَائِمٌ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَجْدًا شَدِيدًا، فَأَرْسَلَ امْرَأَتَهُ تَسْأَلُ لَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ» ، فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ، فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، فَقَالَ: إِنَّا لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ، فَرَجَعَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَوَجَدَتْ عِنْدَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ هَذِهِ الْمَرْأَةِ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: أَلا أَخْبَرْتِهَا أَنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: قَدْ أَخْبَرْتُهَا، فَذَهَبَتْ إِلَى زَوْجِهَا، فَأَخْبَرَتْهُ، فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، وَقَالَ: إِنَّا لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لأَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ»
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک مرد نے رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا لیا اور اسے اس کے باعث شدید غم ہوا۔ اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ اس کے متعلق جاکر سوال کرو۔ پس وہ عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) عنہا کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے اپنے اس واقعہ کا تذکرہ کیا۔ ام سلمہ (رض) عنہا نے بتلایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے ہیں۔ وہ عورت اپنے خاوند کے پاس واپس آگئی اور اسے یہ بات بتائی تو اس کا رنج اور بڑھ گیا اور کہنے لگا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مانند نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو چاہے حلال کرسکتا ہے۔ پھر اس کی بیوی ام سلمہ (رض) عنہا کے پاس واپس گئی تو وہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موجود پایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس عورت کو کیا کام ہے ؟ ام سلمہ (رض) عنہا نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو نے اسے یہ کیوں نہ بتلایا کہ میں بھی ایسا کرتا ہوں ؟ ام سلمہ (رض) عنہا نے کہا میں نے اسے بتایا تھا یہ اپنے خاوند کے پاس گئی اور اسے اس بات کی خبر دی۔ تو اس کا رنج و غم اور بڑھ گیا اور اس نے کہا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مانند نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو چاہے حلال کردے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوئے اور فرمایا۔ اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہوں اور اس کی حدود کو زیادہ جانتا ہوں۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی الرخصۃ فی القبلۃ للصائم میں ذکر کیا ہے) ۔