أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ ابْنَةَ طَلْحَةٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا هُنَالِكَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: «مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْنُوَ إِلَى أَهْلِكَ تُقَبِّلُهَا وَتُلاعِبُهَا؟» ، قَالَ: " أُقَبِّلُهَا وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ إِذَا مَلَكَ نَفْسَهُ عَنِ الْجِمَاعِ، فَإِنْ خَافَ أَنْ لا يَمْلِكَ نَفْسَهُ، فَالْكَفُّ أَفْضَلُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالْعَامَّةِ قَبْلَنَا
عائشہ بنت طلحہ نے بتایا کہ میں ام المؤمنین عائشہ (رض) عنہا کے پاس تھی اور عائشہ بنت طلحہ کا خاوند وہیں آگیا جو کہ عبداللہ بن عبد الرحمن تھا۔ اور وہ روزہ سے تھا۔ پس عائشہ (رض) نے اس سے فرمایا تجھے کیا چیز اس سے روکتی ہے کہ تو اپنی بیوی کے قرب جائے اور اس کا بوسہ لے۔ اور اس سے ملاعبت کرے۔ اس نے کہا کیا میں روزہ کی حالت میں بھی اس کا بوسہ لے لوں ؟ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا۔ ہاں۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب الرخصۃ فی القبلۃ للصائم میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : روزہ دار کو اس وقت بوسہ میں کوئی حرج نہیں جبکہ وہ جماع سے بچنے کی پوری قوت رکھتا ہو۔ اگر اسے خطرہ ہو کہ وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گا تو اس سے بچنا افضل ہے۔ یہی امامابو حنیفہ (رح) کا قول ہے۔ ہم سے پہلے تابعین اور صحابہ کا قول ہے۔