hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 367

.

موطأ الامام محمد

367
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ابْنَةِ الْحَارِثِ، " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: صَائِمٌ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ، إِنَّمَا صَوْمُهُ تَطَوُّعٌ، فَإِنْ كَانَ إِذَا صَامَهُ يُضْعِفُهُ ذَلِكَ عَنِ الدُّعَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَالإِفْطَارُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْم
ام الفضل بنت الحارث (رض) عنہا کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق باہمی شک کیا بعض نے کہا آپ روزے سے تھے اور دوسروں نے کہا آپ روزہ دار نہ تھے۔ تو ام فضل نے دودھ کا ایک پیالہ منگوایا اس وقت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وقوف عرفات میں مصروف تھے ( وہ پیالہ آپ کی خدمت میں پیش کیا) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نوش فرمایا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : عرفہ کے دن جو روزہ رکھنا چاہے روزہ رکھ لے اور جو افطار کرنا چاہے اس کی مرضی ہے۔ یہ نفلی روزہ ہوگا۔ اگر روزہ اس کو اس دن کی دعا میں کمزوری کا باعث ہو تو اس کو افطار ہی افضل ہے۔