أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عُقَيْلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: دَخَلَ عَلَى أَبِيهِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَقَرَّبَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لأَبِيهِ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: كُلْ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَأْمُرُنَا بِالْفِطْرِ فِي هَذِهِ الأَيَّامِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي أَنْ يُصَامَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ لِمُتْعَةٍ، وَلا لِغَيْرِهَا، لِمَا جَاءَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْعَامَّةِ مِنْ قَبْلِنَا، وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: يَصُومُهَا الْمُتَمَتِّعُ الَّذِي لا يَجِدُ الْهَدْيَ، أَوْ فَاتَتْهُ الأَيَّامُ الثَّلاثَةُ قَبْلَ يَوْمِ النَّحْرِ
ابو مرہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) ایام تشریق میں حضرت عمرو بن العاص (رض) کے پاس گئے تو حضرت عمرو نے عبداللہ کے سامنے کھانا رکھا۔ عبداللہ نے کہا میں روزہ دار ہوں۔ تو عمرو (رض) کہنے لگے کھاؤ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دنوں میں ہمیں افطار کا حکم فرماتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ ایام تشریق میں روزہ رکھنا مناسب نہیں ہے۔ نہ تمتع کرنے والے ( کو اور نہ قران و افراد کرنے والے) دوسرے افراد کو۔ اس لیے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہم سے پہلے صحابہ وتابعین کا عمل ہے۔ امام مالک (رح) کہتے ہیں۔ وہ متمتع جس کو ہدی میسر نہ آئے وہ ان دنوں میں روزے رکھے یا وہ شخص جس کو ہدی کی طاقت نہ ہو اور یوم نحر سے پہلے تین دن روزے نہ رکھ سکا ہو۔