hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 372

.

موطأ الامام محمد

372
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجٍّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ لَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، أَنَا صَائِمٌ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ كَانَ وَاجِبًا قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ ثُمَّ نَسَخَهُ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَهُوَ تَطَوُّعٌ مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْعَامَّةِ قَبْلَنَا
حمید بن عبد الرحمن نے حضرت معاویہ (رض) کو منبر پر خطبہ دیتے سنا جبکہ انھوں نے حج کیا۔ وہ کہ رہے تھے۔ اے اہل مدینہ ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس دن کے متعلق کہتے سنا تھا کہ یہ عاشوراء کا دن ہے اور اس کا روزہ تم پر فرض نہیں۔ اور میں روزہ رکھنے والا ہوں۔ پس جو چاہیے وہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
(امام مالک نے یہ روایت باب صیام یوم عاشوراء میں نقل کی ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : عاشورہ کا روزہ فرضیت رمضان سے پہلے فرض تھا پھر اس کی فرضیت رمضان کی وجہ سے منسوخ ہوگئی۔ اب یہ نفلی روزہ ہے۔ جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہم سے پہلے صحابہ (رض) عنہم وتابعین (رح) میں عام کا قول ہے۔