أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، وَمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا مِنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ يُحْرِمُ الرَّجُلُ إِنْ شَاءَ فِي دُبُرِ صَلاتِهِ، وَإِنْ شَاءَ حِينَ يَنْبَعِثُ بِهِ بَعِيرُهُ، وَكُلٌّ حَسَنٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سالم کہتے ہیں میں نے اپنے والد عبداللہ کو کہتے سنا تمہاری وہ جگہ جس کو تم بیداء کہتے ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوت بولتے ہو ( کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ان سے احرام باندہا) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد ذی الحلیفہ کے پاس ہی تلبیہ کہا ( جب آپ مسجد میں نماز سے فارغ ہوئے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ تلبیہ خواہ نماز سے فا ارغ ہو کر کہے یا جب اسے اونٹ پر سوار ہوجائے اس وقت کہے ہر دو طرح درست و خوب ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارٔے عام فقہاء کا قول ہے