أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرُّغَبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، التَّلْبِيَةُ هِيَ التَّلْبِيَةُ الأُولَى الَّتِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا زِدْتَ فَحَسَنٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تلبیہ یہ تھا۔ لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک و الملک لا شریک لک۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اس میں لبیک لبیک وسعدیک و الخیر بیدیک و الرغباء الیک والعمل کا اضافہ فرماتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی تلبیہ کو اختیار کرتے ہیں اور وہی پہلا تلبیہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔ اور جو اس میں اضافہ کرے۔ وہ اچھا ہے یاور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔