hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 389

.

موطأ الامام محمد

389
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّ أُمَّهُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ «تَنْزِلُ بِعَرَفَةَ بِنَمِرَةَ، ثُمَّ تَحَوَّلَتْ فَنَزَلَتْ فِي الأَرَاكِ، فَكَانَتْ عَائِشَةُ تُهِلُّ مَا كَانَتْ فِي مَنْزِلِهَا، وَمَنْ كَانَ مَعَهَا فَإِذَا رَكِبَتْ وَتَوَجَّهَتْ إِلَى الْمَوْقِفِ تَرَكَتِ الإِهْلالَ، وَكَانَتْ تُقِيمُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْحَجِّ، فَإِذَا كَانَ قَبْلَ هِلالِ الْمُحَرَّمِ خَرَجَتْ حَتَّى تَأْتِيَ الْجُحْفَةَ، فَتُقِيمَ بِهَا حَتَّى تَرَى الْهِلالَ، فَإِذَا رَأَتِ الْهِلالَ أَهَلَّتْ بِالْعُمْرَةِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، أَوْ قَرَنَ لَبَّى حَتَّى يَرْمِيَ الْجَمْرَةَ بِأَوَّلِ حَصَاةٍ رَمَى يَوْمَ النَّحْرِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ لَبَّى حَتَّى يَسْتَلِمَ الرُّكْنَ لِلطَّوَافِ، بِذَلِكَ جَاءَتِ الآثَارُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَغَيْرِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عائشہ (رض) عنہا عرفات میں نمرہ کے مقام پر اتر تیں پھر وہاں سے بدل کر مقام اراک میں اترتیں۔ ام علقمہ کہتے ہیں کہ عائشہ (رض) عنہا جب تک اپنی منزل میں رہتی وہ تلبیہ کہتیں اور ان کے ساتھ والی عورتیں بہی تلبیہ کہتیں۔ جب سوار ہوتیں اور موقف کی طرف روانہ ہوتیں تو تلبیہ ترک کردیتیں۔ وہ حج کے بعد مکہ میں مقیم ہوجاتیں۔ جب محرم کا چاند طلوع کے قریب ہوتا تو مکہ سی نکل کر جحفہ آکر وہاں مقیم ہوجاتیں جب محرم کا چاند نظر آجاتا تو وہ عمرے کا حرام باندھتیں۔ (روایات الا کو امام مالک نے باب قطع التلبیہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : جس نے حج مفرد کا احرام باندھا یا اس نے قرآن کیا تو وہ جمرہ اولی کی کنکریان مارنے تک تلبیہ کہتا رہے یہ کنکریان نحر کے دن ماری جاتی ہیں۔ پہلی کنکری پر تلبیہ قطع کردے۔ جو شخص فقط عمرہ کا احرام باند ہے تو طواف شروع کرتے وقت استلام رکن ( حجر اسود) تک تلبیہ کہیٔ۔ اس کے متعلق ابن عباس (رض) سے آثار و ارد ہوئے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔