أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَلادَ بْنَ السَّائِبِ الأَنْصَارِيَّ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي، أَوْ مَنْ مَعِيَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلالِ بِالتَّلْبِيَةِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ أَفْضَلُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سائب بن خلاد بن سوید انصاری ٧ خزرجی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے) حکم دیا کہ میں اپنے اصحاب کو یا اپنے ساتھ والوں کو تلبیہ کے ساتھ آوازیں بلند کرنے کا حکم دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہلال یا تلبیہ میں سے ایک لفظ بولا راوی کو شک ہے) اس روایت کو امام مالک نے باب رفع الصوت بالتلبیہ میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ تلبیہ کو بلند آواز سے کہنا افضل ہی اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے