أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: «افْصِلُوا بَيْنَ حَجِّكُمْ وَعُمْرَتِكُمْ، فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّ أَحَدِكُمْ، وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِهِ أَنْ يَعْتَمِرَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: يَعْتَمِرُ الرَّجُلُ وَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ ثُمَّ يَحُجَّ وَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيَكُونُ ذَلِكَ فِي سَفَرَيْنِ أَفْضَلَ مِنَ الْقِرَانِ، وَلَكِنَّ الْقِرَانَ أَفْضَلُ مِنَ الْحَجِّ مُفْرَدًا، وَالْعُمْرَةُ مِنْ مَكَّةَ، وَمِنَ التَّمَتُّعِ، وَالْحَجُّ مِنْ مَكَّةَ، لأَنَّهُ إِذَا قَرَنَ كَانَتْ عُمْرَتُهُ، وَحَجَّتُهُ مِنْ بَلَدِهِ، وَإِذَا تَمَتَّعَ كَانَتْ حَجَّتُهُ مَكِّيَّةً، وَإِذَا أَفْرَدَ بِالْحَجِّ كَانَتْ عُمْرَتُهُ مَكِّيَّةً، فَالْقِرَانُ أَفْضَلُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا۔ اپنے حج وعمرہ کے درمیان فصل کرو۔ اس طرح تمہارا حج بھی مکمل اور عمرہ بھی مکمل ہوگا۔ وہ اس طرح کہ عمرہ حج کے مہینوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں کرو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اگر آدمی عمرہ کرکے گھر لوٹ جائے پھر دوبارہ جاکر حج کرے اور لوٹ آئے اس طرح حج وعمرہ دو اسفار کے ساتھ کرنا قران سے افضل ہے۔ البتہ قران حج مفرد سے افضل ہے۔ اور اسی طرح مکہ مکرمہ سے عمرہ ادا کرنے اور مکہ مکرمہ سے تمتع کرنے سے افضل ہے۔ کیونکہ جب قر ان کرے گا تو اس کا عمرہ اور حج اس کے اپنے شہر سے ہوگا۔ دوسری طرف جب تمتع کرے گا تو اس کا حج مکی ہوگا۔ اور جب حج مفرد کرے گا تو اس کا عمرہ مکل ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ قران افضل ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا اختیار ہے۔