أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ ابْنَ زِيَادِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ، وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيٍ، فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ، أَوْ مُرِي صَاحِبَ الْهَدْيِ، قَالَتْ عَمْرَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَا فَتَلْتُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَبَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، ثُمَّ لَمْ يَحْرُمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ شَيْءٌ كَانَ أَحلَّهُ اللَّهُ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَإِنَّمَا يَحْرُمُ عَلَى الَّذِي يَتَوَجَّهُ مَعَ هَدْيِهِ يُرِيدُ مَكَّةَ، وَقَدْ سَاقَ بَدَنَةً وَقَلَّدَهَا، فَهَذَا يَكُونُ مُحْرِمًا حِينَ يَتَوَجَّهُ مَعَ بَدَنَتِهِ الْمُقَلَّدَةِ بِمَا أَرَادَ مِنْ حَجٍّ، أَوْ عُمْرَةٍ، فَأَمَّا إِذَا كَانَ مُقِيمًا فِي أَهْلِهِ لَمْ يَكُنْ مُحْرِمًا، وَلَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ حَلَّ لَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى
عمرہ بنت عبد الرحمن نے بتلایا کہ زیاد بن ابی سفیان عائشہ صدیقہ (رض) عنہا کی طرف لکھا کہ ابن عباس (رض) عنہا کہتے ہیں کہ جو شخص ہدی روانہ کردے اس پر وہ باتیں حرام ہوجاتی ہیں جو احرام کی حالت میں حرام ہوتی ہیں۔ میں نے ہدی روانہ کی ہے۔ آپ اپنا فتوی لکھ کر بتلادیں یا کسی کے ہاتھ کہلا بھیجیں۔ عمرہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) عنہا نے فرمایا۔ ابن عباس (رض) جو بیان کرتے ہیں ایسا نہیں ہے۔ میں نے اپنے ہاتھ سے ہدی کے پٹے بنے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دست اقدس سے ان کو ہدی کے گلے میں لٹکا کر میرے والد محترم کے ساتھ روانہ کردیا۔ پھر بھی حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کجھ حرام نہیں ہوا تھا۔ وہ جو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا تھا۔ یہاں تک کہ ہدایا ذبح کردیئے گئے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اسی پر ہمارا عمل ہے کہ محرم والے احکام اس پر لاگو ہوتے ہیں جو اپنی ہدی کے ساتھ خود جائے اور ان کو قلادہ ڈالے یہ یہدی کے ساتھ جانے کی وجہ سے محرم بن جائے۔ خواہ اس کے حج کا ارادہ کیا ہو یا عمرے کا۔ رہا وہ شخص جو مقیم ہو اپنے گھر مں ن ٹھہرا رہے وہ محرم نہ بنے گا۔ اور اس کے لیے کوئی حلال شی حرام نہ ہوگی۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔