hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 4

.

موطأ الامام محمد

4
Muawtta Imam Muhammad
4 - أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: تَأْخِيرُ الْعَصْرِ أَفْضَلُ عِنْدَنَا مِنْ تَعْجِيلِهَا إِذَا صَلَّيْتَهَا وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ تَدْخُلْهَا صُفْرَةٌ، وَبِذَلِكَ جَاءَتْ عَامَّةُ الآثَارِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ: إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرَ، لأَنَّهَا تُعْصَرُ وَتُؤَخَّرُ
امام محمد نے اپنی سند کے ساتھ انس بن مالک (رض) کا فرمان نقل کیا ہے کہ ہم عصر کی نماز ادا کرتے پھر بنی عمرو بن عوف کی طرف جانے والا جاتا تو وہ ان کو ہاں نماز عصر ادا کرتے ہوئے پاتا۔
قول محمد (رح) : ہمارے نزدیک نماز عصر کو مؤخر کرنا اس کے جلد ادا کرنے سے افضل ہے۔ مگر اس کی شرط یہ ہے کہ نماز عصر ایسے وقت کے اندر ادا کرلی جائے جب دھوپ صاف ستھری ہو اس میں زردی کا اثر نہ پایا جائے اور عام آثار صحابہ وتابعین اس کی تائید کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ کا یہی مسلک ہے۔ بعض فقہاء نے اس کی تاخیر کا قول لفظ ” عصر “ سے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ اس کا معنی نچوڑنا اور مؤخر کرنا ہے۔ اور اس کو مؤخر کرکے پڑھا جاتا ہے۔