أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِيَعْلَى بْنِ مُنِيَّةَ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَى عُمَرَ مَاءً، وَعُمَرُ يَغْتَسِلُ: " اصْبُبْ عَلَى رَأْسِي، قَالَ لَهُ يَعْلَى: أَتُرِيدُ أَنْ تَجْعَلَهَا فِيَّ؟ إِنْ أَمَرْتَنِي صَبَبْتُ، قَالَ: اصْبُبْ، فَلَمْ يَزِدِ الْمَاءُ إِلا شَعَثًا "، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا نَرَى بِهَذَا بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى
عطاء بن ابی رباح (رح) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) عن نے یعلی بن منیہ کو اس وقت فرمایا جبکہ وہ عمر (رض) پر پانی ڈال رہے تھے اور عمر (رض) غسل کر رہے تھے کہ پانی میرے سر پر ڈالو۔ یعلی کہنے لگے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ مجھ پر گناہ لازم ہوجائے کہ مجھے بہانے کا حکم دے رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا ۔ پانی بہاء اس سے تو بالوں کی پراگندگی میں اضافہ ہی ہوگا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اسی قول کو امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء نے اختیار کیا ہے۔