hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 418

.

موطأ الامام محمد

418
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ تَمَارَيَا بِالأَبْوَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لا، فَأَرْسَلَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ يَسْأَلُهُ، فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرَسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ " فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الثَّوْبِ وَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَيْهِ: اصْبُبْ، فَصُبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ، فَأَقْبَلَ بِيَدِهِ وَأَدْبَرَ، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ أَبِي أَيُّوبَ نَأْخُذُ، لا نَرَى بَأْسًا أَنْ يَغْسِلَ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ بِالْمَاءِ، وَهَلْ يَزِيدُهُ الْمَاءُ إِلا شَعَثًا؟ ! وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابن حنین کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ (رض) نے مقام ابواء میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا۔ عبداللہ کہتے تھے محرم اپنا سر دھوسکتا ہے۔ مسور کہتے تھے کہ محرم کو اجازت نہیں۔ چنانچہ ابن عباس (رض) عنہمانے ان کو ابو ایوب (رض) کے پاس اس مسئلہ کو دریافت کرنے کے لیے بھیجا تو ابن حنین نے ابو ایوب (رض) کو دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا۔ ان لکڑیوں پر کبڑا ڈال کر وہ غسل فرما رہے تھے۔ ابن حنین کہتے ہیں میں نے سلام کیا تو انھوں نے پوجھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا میں عبداللہ بن حنین ہوں۔ مجھے ابن عباسنی آپ کی خدمت میھ یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احرام کی حالت میں کس طرح سر مبارک دھوتے تھے۔ انھوں نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اس کو اس قدر جھکایا کہ ان کا سر مجھے نظر آنے لگا۔ پھر پانی ڈالنے والے کو فرمانے لگے پانی ڈالو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا۔ پھر انھوں نے اپنے ہاتھ سے سر کو ہلایا ( ملا) اور ہاتھ کو پچھلی طرف لے گئے اور کہنے لگے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم ابو ایوب انصاری (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ محرم کے لیے سر دھونے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے اور پانی تو بالوں کی پراگندگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔