أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَعْتَمِرَ فِي شَوَّالٍ، فَأَذِنَ لَهُ، فَاعْتَمَرَ فِي شَوَّالٍ ثُمَّ قَفَلَ إِلَى أَهْلِهِ وَلَمْ يَحُجَّ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَلا مُتْعَةَ عَلَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى
عمر بن ابی سلمہ مخزومی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) عن سے شوال میں عمرہ کی اجازت طلب کی عمر (رض) نے ان کو اجازت مرحمت فرمادی، پس انھوں نے شوال میں عمرہ کیا پہر واپس مدینہ لوٹ آئے اور حج نہ کیا۔
(اس روایت کو امام مالک (رح) باب العمرۃ ف اشہر لحج میں ذکر کیا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اور اس پر دم تمتع بہی لازم نہ ہوگا ( خواہ اسی سال وہ حج افراد کرے۔ تمتع تو صفر واحد سے متعلق ہے) امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔