أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ «أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ» ، قَالَ: «ثُمَّ رَأَيْتُهُ يَسْعَى حَوْلَ الْبَيْتِ حَتَّى طَافَ الأَشْوَاطَ الثَّلاثَةَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الرَّمْلُ وَاجِبٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَغَيْرِهِمْ فِي الْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عروہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن زبیر (رض) کو دیکھا کہ انھوں تنعیم سے احرام باندھا۔ پھر میں نے ان کو دیکھا کہ وہ بیت اللہ کے گرد تین چکروں میٔں قوت و ہمت سے چل رہے (رمل کر رہے) ہیں۔ اس روایت کو امام مالک نے باب الرمل فی الطواف میں ذکر کیا ہی)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں رمل اہل مکہ اور آفاقی ہر دو پر حج وعمرہ میں واجب ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے اور ہمارے عام فقہاء بھی اسی طرف گئے ہیں۔