أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ «اعْتَمَرَ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِقُدَيْدٍ جَاءَهُ خَبَرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَرَجِعَ فَدَخَلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، مَنْ كَانَ فِي الْمَوَاقِيتِ، أَوْ دُونَهَا إِلَى مَكَّةَ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَكَّةَ وَقْتٌ مِنَ الْمَوَاقِيتِ الَّتِي وُقِّتَتْ، فَلا بَأْسَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ خَلْفَ الْمَوَاقِيتِ أَيَّ وَقْتٍ مِنَ الْمَوَاقِيتِ الَّتِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَكَّةَ، فَلا يَدْخُلَنَّ مَكَّةَ إِلا بِإِحْرَامٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے عمرہ کیا پھر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ ابھی مقام قدید میں پہنچے تھے کہ انھیں مدینہ منورہ سے کوئی اطلاع ملی جس کی وجہ سے وہ واپس لوٹ گئے اور مکہ مکرمہ میں بغیر احرام کے داخل ہوئے۔ (اس روایت کو باب جامع الحج میں امام مالک نے ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : اسی پر ہمارا عمل ہے۔ جو شخص میقات میں ہو یا مکہ مکرمہ کے قری ہو اس کے اور مکہ مکرمہ کے درمیان کوئی مقررہ مقیات نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہوجائے۔ البتہ جوش شخص میقات سے باہر ہو تو وہ احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہو یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔