أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: «الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ الَّتِي تُهِلُّ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ تُهِلُّ بِحَجَّتِهَا، أَوْ بِعُمْرَتِهَا إِذَا أَرَادَتْ، وَلَكِنْ لا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى تَطَّهَّرَ، وَتَشْهَدَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا مَعَ النَّاسِ غَيْرَ أَنَّهَا لا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلا تَقْرَبُ الْمَسْجِدَ، وَلا تُحِلُّ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ»
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے تھے جب عورت نے حج یا عمرہ کے لیے حالت حیض میں احرام باندھا ہو وہ جب چاہے تلبیہ کہے۔ لیکن پاک ہونے تک حیض کے ایام میں بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کے درمیان سعی نہ کرے، دیگر تمام مناسک حج میں لوگوں کے ساتھ شریک رہے۔ البتہ طواف و سعی نہ کرے اور نہ مسجد میں داخل ہو اور نہ احرام اتارے جب تک کہ (پاک ہو کر) بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کرـلے۔