أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ الْقَاسِمُ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ لَيْلا وَهُوَ مُعْتَمِرٌ، فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَيُؤَخِّرُ الْحِلاقَ حَتَّى يُصْبِحَ، وَلَكِنَّهُ لا يَعُودُ إِلَى الْبَيْتِ فَيَطُوفُ بِهِ حَتَّى يَحْلِقَ، وَرُبَّمَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَوْتَرَ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ يَقْرَبِ الْبَيْتَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا بَأْسَ بِأَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ إِنْ شَاءَ لَيْلا وَإِنْ شَاءَ نَهَارًا، فَيَطُوفَ وَيَسْعَى، وَلَكِنَّهُ لا يُعْجِبُنَا لَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الطَّوَافِ حَتَّى يَحْلِقَ، أَوْ يُقَصِّرَ كَمَا فَعَلَ الْقَاسِمُ، فَأَمَّا الْغُسْلُ حِينَ يَدْخُلُ فَهُوَ حَسَنٌ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ.
قاسم رات کو مکہ میں داخل ہوتے جب کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے ہوتے۔ وہ بیت اللہ کا طواف کرتے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے اور پھر صبح تک سر نہ منڈواتے۔ لیکن دوسرا طواف ٧ ح ٧ لق کرائے بغیر نہ کرتے۔ جب رات کے آخری یحصہ میں مسجد داخل ہوتے تو بیت اللہ میں وتر ادا کرتے طواف اور استلام نہ کرتے بلکہ بیت اللہ کے قریب بھی نہ جاتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ مکہ مکرمہ میں رات یا دن کسی وقت میں داخل ہوسکتا ہے۔ اس میں کچھ حرج نہیں۔ پھر طواف اور سعی کرے۔ مگر ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ پہلے عمرہ کا حلق یا قصر کرنے سے پہلے دوبارہ طواف کرے۔ جیسا کہ قاسم نے کیا۔ باقی رہا غسل دخول مکہ کے وقت تو وہ اچھا ہے لازم نہیں ہے۔