أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ «إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى، وَلا يَسْعَى إِلا إِذَا طَافَ حَوْلَ الْبَيْتِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِنْ فَعَلَ هَذَا أَجْزَأَهُ، وَإِنْ طَافَ وَرَمَلَ وَسَعَى قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ أَجْزَأَهُ ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ حَسَنٌ إِلا أَنَّا نُحِبُّ لَهُ أَنْ لا يَتْرُكَ الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ فِي الأَشْوَاطِ الثَّلاثَةِ الأُوَلِ إِنْ عَجَّلَ، أَوْ أَخَّرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) جب مکہ مکرمہ سے احرام باندھتے تو بیت اللہ کا طواف نہ کرتے اور نہ ہی صفاء ومروہ کے درمیان سعی کرتے۔ یہاں تک کہ منٰی سے واپس لوٹ آتے اور سعی نہ کرتے مگر جب کہ بیت اللہ کا طواف کرتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اگر کوئی اس طرح کرے تو مناسب ہے۔ اور اگر منٰی جانے سے پہلے رمل کے ساتھ طوال کرے اور سعی کرے تو یہ بہی جائز ہے۔ یہ سب کچھ خوب ہے مگر ہمارے ہاں زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ خانہ کعبہ کے طواف کے چکروں کے دوران پہلے تین چکروں میں رمل ترک نہ کرے۔ خواہ طواف پہلے کرچکا یا بعد میں د یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔
رمل : طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر پہلوانوں کی طرح چلنا۔ یہ ہر اس طواف میں سنت ہے جس کے بعد سعی ہو۔