أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَنْهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، أَوْ عَلَى عَمَّتِهَا وَأَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ وَلِيدَةً فِي بَطْنِهَا جَنِينٌ لِغَيْرِهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى.
یحی بن سعید (رح) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) کو اس بات سے منع کرتے ہوئے سنا کہ کوئی شخص کسی عورت سے اس کی پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کرے اور اسی طرح اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح نہ کرے اور کسی ایسی لونڈی سے مجامعت نہ کرے جو کہ کسی مرد سے حاملہ ہو۔ ( ان دونوں مرویات کو امام مالک نے باب مالا یجمع بینہ من النساء میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔