أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ خَنْسَاءَ ابْنَةِ خِذَامٍ، أَنَّ «أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يَنْبَغِي أَنْ تُنْكَحَ الثَّيِّبُ، وَلا الْبِكْرُ إِذَا بَلَغَتْ إِلا بِإِذْنِهِمَا فَأَمَّا إِذْنُ الْبِكْرِ فَصَمْتُهَا، وَأَمَّا إِذْنُ الثَّيِّبِ فَرِضَاهَا بِلِسَانِهَا، زَوَّجَهَا وَالِدُهَا أَوْ غَيْرُهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
یزید بن جاریہ انصاری کے بیٹے جمع اور عبد الرحمن نے بیان کیا کہ خنساء بنت خذام کے والد نے خنساء کا نکاح اس حالت میں کردیا جبکہ وہ ثیبہ تھیں۔ ان کو یہ نکاح ناپسند ہوا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور شکایت کی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نکاح رد ( فسخ) کردیا۔ ( اس روایت کو باب جامع ما لا یجوز من النکاح میں ذکر یکا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ثیبہ یا باکرہ دجب بالغ ہوجائیں تو ان کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر مناسب نہیں۔ باکرہ کی خاموشی اس کی اجازت سمجھی جائے گی مگر ثیبہ کی رضا مندی زبان سے معتبر ہوگی۔ خواہ اس کا نکاح اس کا والد کرے یا کوئی اور کرے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء بھی اسی طرف گئے ہیں۔