أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ وَكَانَ عِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ حِينَ أَسْلَمَ الثَّقَفِيُّ، فَقَالَ لَهُ: «أَمْسِكْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا، وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، يَخْتَارُ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا أَيَّتُهُنَّ شَاءَ، وَيُفَارِقُ مَا بَقِيَ، وَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَقَالَ: نِكَاحُ الأَرْبَعَةِ الأُوَلِ جَائِزٌ، وَنِكَاحُ مَنْ بَقِيَ مِنْهُنَّ بَاطِلٌ وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت پہنچی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ثقفی کو فرمایا جس نے اسلام قبول کیا تو اس کے ہاں دس عورتیں تھیں۔ ان بیویوں میں سے چار کو روک لو اور باقی سے جدا اختیار کرلو۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ ان بیویوں میں سے جن چار کو چاہے منتخب کرے جائز ہے اور باقی کو الگ کردے۔ لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہ ہے کہ پہلی چار کا نکاح جائز ہے۔ اور باقی کا باطل ہے۔ اور ابراہیم نخعی (رح) بھی اسی طرف گئے ہیں۔