أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّ امْرَأَةً هَلَكَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَاعْتَدَّتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ حِينَ حَلَّتْ فَمَكَثَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفًا، ثُمَّ وَلَدَتْ وَلَدًا تَامًّا، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: " فَدَعَا عُمَرُ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ قُدَمَاءَ، فَسَأَلَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُنَّ: أَنَا أُخْبِرُكَ، أَمَّا هَذِهِ الْمَرْأَةُ هَلَكَ زَوْجُهَا حِينَ حَمَلَتْ، فَأُهْرِيقَتِ الدِّمَاءُ فَحَشَفَ وَلَدُهَا فِي بَطْنِهَا، فَلَمَّا أَصَابَهَا زَوْجُهَا الَّذِي نَكَحَتْهُ، وَأَصَابَ الْوَلَدَ الْمَاءُ تَحَرَّكَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا، وَكَبِرَ فَصَدَّقَهَا عُمَرُ بِذَلِكَ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا "، وَقَالَ عُمَرُ: «أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْنِي عَنْهُمَا إِلا خَيْرًا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالأَوَّلِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الْوَلَدُ وَلَدُ الأَوَّلِ، لأَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ عِنْدَ الآخَرِ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَلا تَلِدُ الْمَرْأَةُ وَلَدًا تَامًّا لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَهُوَ ابْنُ الأَوَّلِ، وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ الآخَرِ، وَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا: الأَقَلُّ مِمَّا سُمِّيَ لَهَا وَمِنْ مَهْرِ مِثْلِهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سلیمان بن ی سار بیان کرتے ہیں عبداللہ بن امیہ نے ذکر کیا کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ اس نے عدت کے چار ماہ دس دن پورے کئے۔ عدت سے فارغ ہو کر اس سے نکاح کرلیا۔ اس شوہر کے ہاں ساڑھے چار ماہ کے بعد اس کے بطن سے مکمل بچہ پیدا ہوگیا۔ اس کا ا خاوند حضرت عمر (رض) کے خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے زمانہ جاہلیت کی چند بوڑھی عورتوں کو بلایا اور ان سے اس کے متعلق استفسار کیا۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا میں آپ کو بتلاتی ہوں جب اس عورت کا خاوند فوت ہوا یہ حاملہ تھی۔ خون بہنے سے اس کا بچہ اس کے پیٹ میں خشک ہوگیا۔ جب اس نے دوسرے شوہر سے مباشرت کی تو بچے کو وہ پانی پہنچا اس نے ماں کے پیٹ میں حرکت کی اور بڑھ گیا۔
حضرت عمر (رض) نے اس بات سے اتفا اق کیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی اور فرمایا تم دونوں کی اس میں کوئی شرارت نہیں۔ اور بچے کو اول خاوند سے ملحق کردیا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ بچہ پہلے خاوند کا ہے کیونکہ وہ عورت اس دوسرے خاوند کے پاس چھ ماہ سے کم مدت رہی ۔ اور عورت چھ ماہ سے کم مدت میں بچہ نہیں جن سکتی کیونکہ اس کی شرمگاہ سے فائدہ حاصل کیا گیا ۔ حق مہر مقررہ مقدار یا مہر مثل سے کم ہوگا۔ یہی امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔