hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 549

.

موطأ الامام محمد

549
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ، أنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَجَاءَهُ ابْنُ قَهْدٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّ عِنْدِي جَوَارِيَ، لَيْسَ نِسَائِي اللاتِي كُنَّ بِأَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهُنَّ، وَلَيْسَ كُلُّهُنَّ يُعْجِبُنِي أَنْ تَحْمِلَ مِنِّي، أَفَأَعْزِلُ؟ قَالَ: قَالَ: أَفْتِهِ يَا حَجَّاجُ، قَالَ: قُلْتُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، إِنَّمَا نَجْلِسُ إِلَيْكَ لِنَتَعَلَّمَ مِنْكَ، قَالَ، أَفْتِهِ، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ حَرْثُكَ إِنْ شِئْتَ عَطَّشْتَهُ وَإِنْ شِئْتَ سَقَيْتَهُ "، قَالَ: وَقَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْ زَيْدٍ، فَقَالَ زَيْدٌ: صَدَقَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ لا نَرَى بِالْعَزْلِ بَأْسًا عَنِ الأَمَةِ، وَأَمَّا الْحُرَّةُ، فَلا يَنْبَغِي أَنْ يَعْزِلَ عَنْهَا إِلا بِإِذْنٍ، وَإِذَا كَانَتِ الأَمَةُ زَوْجَةَ الرَّجُلِ، فَلا يَنْبَغِي أَنْ يَعْزِلَ عَنْهَا إِلا بِإِذْنٍ مَوْلاهَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
حجاج بن عمرو بن غزیہ بیان کرتے ہیں کہ میں زید بن ثابت کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک یمنی آدمی آیا۔ جس کا نام ابن قہد تھا۔ اور اس نے کہا اے ابو سعید میری چند لونڈیاں ہیں۔ وہ میری بیوی سے زیادہ حسین ہیں۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ مجھ سے حاملہ ہوں۔ کیا میں عزل کرسکتا ہوں۔ حجاج کہتے ہیں کہ مجھے مخاطب ہو کر زید بن ثابت فرمانے لگے۔ اے حجاج اس کو مسئلہ بتلاؤ۔ میں نے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ہم تو آپ کی خدمت میں آپ سے سیکھنے بیٹھتے ہیں پھر زید بن ثابت نے کہا وہ تمہاری کھیتی ہے چاہو اسے خشک رکھو اور خواہ اس کو سیراب کرو۔ اس نے کہا یہ بات تو میں زید سے بھی سنا کرتا تھا۔ تو زید فرمانے لگے یہ حق اور درست ہے۔ ( ان آثار کو امام مالک (رح) نے بالعزل میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں لونڈی سے عزل میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل نہ کرنا چاہیے۔ لوندی اگر کسی کے نکاح میں تو اس کو مولی اجازت کے بغیر اس سے عزل کرنا مناسب نہیں یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔