hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 550

.

موطأ الامام محمد

550
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يَعْزِلُونَ عَنْ وَلائِدِهِمْ؟ لا تَأْتِينِي وَلِيدَةٌ فَيَعْتَرِفُ سَيِّدُهَا أَنَّهُ قَدْ أَلَمَّ بِهَا إِلا أَلْحَقْتُ بِهِ وَلَدَهَا فَاعْتَزِلُوا بَعْدُ، أَوِ اتْرُكُوا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِنَّمَا صَنَعَ هَذَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى التَّهْدِيدِ لِلنَّاسِ أَنْ يُضَيِّعُوا، وَلائِدَهُمْ، وَهُمْ يَطَئُونَهُنَّ، قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَطِئَ جَارِيَةً لَهُ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ، فَنَفَاهُ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَطِئَ جَارِيَةً لَهُ فَحَمَلَتْ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لا تُلْحِقْ بِآلِ عُمَرَ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَجَاءَتْ بِغُلامٍ أَسْوَدَ، فَأَقَرَّتْ أَنَّهُ مِنَ الرَّاعِي، فَانْتَفَى مِنْهُ عُمَرُ، وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ، يَقُولُ: إِذَا حَصَّنَهَا وَلَمْ يَدَعْهَا تَخْرُجْ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ لَمْ يَسَعْهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَنْتَفِي مِنْهُ، فَبِهَذَا نَأْخُذُ
عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ اپنی کنیزوں سے عزل کرتے ہیں تاکہ اس کے ہاں بچہ نہ ہو پس اگر کسی کے آقانے مجھ سے اعتراف کرلیا کہ اس نے لونڈی کے ساتھ جماع کیا ہے تو میں اس کو بچہ اس سے ملا دوں گا خواہ وہ عزل کریں یا نہ کریں۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ یہ بات حضرت عمر (رض) سے لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہی تاکہ لوگ اپنا پانی ضائع نہ کریں۔ جبکہ وہ ان سے جماع کرتے ہیں۔ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ زید بن ثابت نے اپنی کنیز سے مباشرت کی اس سے بچہ بیدا ہوا تو آپ نے اس سے انکار کردیا۔ حضرت عمر (رض) نے اپنے لونڈی سے مباشرت کی تو وہ حاملہ ہوگئی تو آپ نے یوں دعا کی۔ اے اللہ جو عمر کی اولاد سے نہیں۔ اسے اس کی اولاد کے ساتھ نہ ملا۔ اس لونڈی کے ہاں سیاہ رنگ کا بچہ پیدا ہوا تو اس نے اقرار کیا کہ یہ ایک چرواہے کا ہے۔ پس حضرت عمر (رض) نے اس بچہ سے انکار کردیا ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ جب لونڈی کو پردہ میں رکھے اور اسے باہر نہ نکلنے دے اور لونڈی کے بچہ پیدا ہو تو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس بات کی گنجائش نہیں۔ کہ وہ بچہ کا انکار کرے۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔