أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئلَ عَنِ امْرَأَةٍ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا؟ قَالَ: «إِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّتْ» ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ عِنْدَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: «لَوْ وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ لَمْ يُدْفَنْ بَعْدُ حَلَّتْ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابن شہاب (رح) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر سے اس عورت کے متعلق سوال کیا گیا۔ کہ جس کا شوہر فوت ہوچکا ہو۔ انھوں نے فرمایا جب اس کا بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی عدت پوری ہوجاتی ہے ایک انصاری نے (جوان کے پاس بیٹھے تھے) کہا عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا اکر وہ بچہ پیدا ہوجائے اور شوہر کی میت ابہی تختہ پر ہی ہو اور اسے دفن نہ کیا کیا ہو تب بہی اس کی عدت پوری ہوجاتی ہے ؟ (یہ اثر معمولی اختلاف سند کے ساتھ باب عدۃ المتوفی عنہا زوجہا اذا کانت حاملا میں امام مالک نے ذکر فرمایا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔